جاہ و جلال
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - شان و شوکت، عظمت، دبدبہ، رعب۔ تو عظمت گزشتہ کی آج تک امیں ہے جاہ و جلال تیرے پہلو میں تہ نشیں ہے ( ١٩٢٩ء، مطلع انوار، ٣٠ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'جاہ' کے بعد حرف عطف 'و' لگا کر عربی زبان سے ماخوذ اسم 'جلال' لگانے سے مرکب عطفی "جاہ و جلال" بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٤ء میں "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر